ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / طلبہ کو خواب دیکھنا سکھانا اساتذہ کی ذمہ داری،کردار سازی پر بھی زور۔ اُردو یونیورسٹی میں انجینئر سعادت اللہ حسینی کا یوم اساتذہ لکچر

طلبہ کو خواب دیکھنا سکھانا اساتذہ کی ذمہ داری،کردار سازی پر بھی زور۔ اُردو یونیورسٹی میں انجینئر سعادت اللہ حسینی کا یوم اساتذہ لکچر

Wed, 07 Sep 2016 11:38:14    S.O. News Service

حیدرآباد6ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا) ایک ایسی دنیا میں جہاں معلومات تک رسائی انٹرنیٹ کے ذریعہ آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہے، اساتذہ کا رول تبدیل ہوکرطلبہ کو بڑے اہداف کے لیے خواب دکھانے والا اور حوصلہ افزائی کرنے والا ہو ہوگیا ہے۔ اس بات کااظہار ممتاز سماجی محقق انجینئر سعادت اللہ حسینی، ڈائرکٹر، سنٹر فار اسٹڈی اینڈ ریسرچ ، نئی دہلی نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں کیا۔’’بدلتے دورکے تقاضے اور استاد کا کردار‘‘ کے عنوان سے منعقدہ یوم اساتذہ لکچر کے دوران جناب حسینی نے کہا کہ اساتذہ کی معلومات فراہم کرنے کی ذمہ داری اب ختم ہوچکی ہے۔ آج معلومات انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔ ایک پر عزم طالب علم اپنے لیے ضروری معلومات خود ہی حاصل کرلیتا ہے۔ لہٰذا ایک استاد کو اپنے رسمی رول سے آگے بڑھ کر ایک ایسی شخصیت میں بدلنا ہوگا جو طالب علم کو بڑے خواب سجانے اور عظیم اہداف طئے کرنے والا بناسکے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ طلبہ کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں بلکہ انہیں صحیح سمت دیں تاکہ وہ آگے چل کر استحصال کا خاتمہ اور دولت کی مساویانہ تقسیم جیسے عظیم کام انجام دے سکے۔ جناب حسینی نے کہا کہ مادہ پرستی کے اس دور میں دولت کے زیادہ سے زیادہ حصول کے چکر میں انسان نے کمزوروں سے محبت اور ان کی مدد جیسے احساسات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایسے حالات میں باغبان جس طرح بیج کی صلاحیت پر توجہ دیتا ہے اور اس پر صحیح طریقے سے اپنی توانائیاں خرچ کرتا ہے تاکہ وہ پھل پھول دے سکے اسی طرح ایک استاد کو بھی طالب علموں کی چھپی ہوئی صلاحیتوں پر توجہ دینی ہوگی۔سروے پلی رادھا کرشنن کی یوم پیدائش کے سلسلے میں منعقدہ یوم اساتذہ لکچر کا اہتمام اسکول برائے تعلیم و تربیت کی جانب سے کیا گیا تھا۔ پروگرام کی صدارت ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے کی۔انہوں نے عوام کی گرتی ہوئی قدروں کی نشاندہی کرتے ہوئے اساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ کی کردار سازی پر زور دیں اور انہیں ملک اور دنیا کے لیے سودمند بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بدترین حالات کے پیش نظر اب ہمیں مذہبی تعلیمات پر غور کرنا ہوگا۔ کیونکہ ہر مذہب میں انسانیت کی تعلیم دی گئی ہے۔ انہوں نے بطور خاص قرآنی حوالوں سے کہا کہ انسان کو خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر شکیل احمد،رجسٹرار،مانونے کہا کہ طلبہ کی تعلیم میں والدین کا بھی اہم رول ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ایک ٹیچر کو ایسا بننا چاہئے جوطلبہ کے دل کوچھولے۔‘‘پروفیسر فاطمہ بیگم، ڈین اسکول برائے تعلیم و تربیت نے رادھا کرشنن کو ایک عظیم فلسفی اوراسکالرقرار دیااور کہا کہ انہوں نے مشرق اور مغرب کے بیچ ایک پل کی حیثیت سے کام کیا ہے۔پروفیسر صدیقی محمدمحمود،صدر شعبۂ تعلیم و تربیت نے مہمان کا تعارف پیش کیا اور کاروائی چلائی۔ جناب سید امان عبید، اسسٹنٹ پروفیسر کی قرأت کلام پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر محمد اطہر حسین ، اسسٹنٹ پروفیسر نے شکریہ ادا کیا۔شعبۂ تعلیم و تربیت طلبہ دانش اقبال اور زبیر عالم نے بھی مخاطب کیا۔ 


Share: